بینش رُباب لیلیٰ
ہر طرف لال رنگ نظر آ رہا ہے ۔ کسی نے لال رنگ کا کپڑا ہاتھ پر تو کسی نے گلے میں، کسی نے کمر پر تو کسی نے کندھے پر باندھا ہوا ہے۔ اور یہاں موجود ہر شخص نے ایک ڈنڈہ اُٹھایا ہوا ہے جس پر بھی ایک سرخ رنگ کا پرچم لہرا رہا ہے۔
کچھ لوگوں نے پلے کارڈز اُٹھا رکھے ہیں جن پر مختلف مطالبات تحریر شدہ ہیں۔۔۔
سب ایک لمبی سڑک پر چلے جا رہے ہیں۔۔۔۔
ہوا میں ہلکی ہلکی خنکی ہے۔ سڑک کے آس پاس کافی سبزہ بھی ہے۔ دور دور تک کوئی اِس ہجوم کے علاوہ دِکھ نہیں رہا، کوئی گاڑی بھی نہیں ہاں مگر آس پاس کچھ لوگ کیمرہ اور مائیک لیئے ہوئے ہیں اور وہاں موجود لوگوں کی تصاویر بنا رہے اور اُن سے مختلف سوال کر رہے جیسے کہ آپ یہاں کیوں آئے؟ کیا موقف ہے آپ کا؟ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ کچھ لوگ چپ چاپ چلے جا رہے اور کچھ ایک دوسرے سے گفتگو کر رہے ۔ کچھ وہاں موجود سوال کرنے والوں کے جوابات بھی چلتے چلتے دے رہے ہیں ۔لوگوں کی چلنے کی آوازیں آ رہی ہیں۔ اُس کے علاوہ کچھ ایسی آوازیں ہیں جیسے کہ تیز ہوا سے جو قریب درختوں کے پتے سرسرا رہے ہیں اُن کی ، یا پھر آسمان میں جو چند ایک پرندے کبھی کبھی آ جاتے ہیں تو اُن کی آواز آنے لگتی ہے ، مگر اتنی ہلکی جیسے کچھ رینگنے کی آواز ہوتی ہے اور کبھی کبھی سپیکر میں سے بھی کچھ آوازیں آتی ہیں ، کھڑ کھڑانے والی آوازیں جو کانوں میں سیٹی کی طرح لگتیں۔۔۔۔۔۔۔
آگے خواتین ہیں اور اُن کی پیچھے مرد ۔ لوگ زیادہ ہیں ، کوئی ١٣٠٠ سے ١۵٠٠ تک تو آرام سے ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سپیکر میں ایک شخص کی آواز آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
!ساتھیو
سب اُسے دیکھ سکتے ہیں کیونکہ وہ ایک گاڑی ( جسے ڈالا کہہ سکتے) میں کھڑا ہوتا ہے جسے سٹیج کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔جو اُن سب لوگوں کے آگے آگے آہستہ آہستہ چل رہی ہے۔ ایک گاڑی اِس ہجوم کے پیچھے بھی ہے اُس پر سپیکر اور ایک دو اور لوگ ہیں۔ سامنے والی گاڑی جس پر وہ شخص سب کو نظر آ رہا ہے اُس کے سامنے ایک بڑا سا بینر لگا ہوا ہے جس پر ایک تحریر آویزاں ہے
“”””””””””””””””جب تک جنتا تنگ رہے گی
جنگ رہے گی ، جنگ رہے گی””””””””””””””””””
بڑی پُرکشش لکھائی ہے جو سرخ بینر پر سفید رنگ سے لکھی ہوئی ہے اور ساتھ میں ایک تصویر ہے،جو ایک وسیع منظر پیش کر رہی ہے۔ تصویر میں ایک طرف ایک کسان خاتون کی محنت کا منظر ہےجسے ایک بڑی موچھوں والا آدمی دور درخت کی چھائوں میں بیٹھا پانی پیتے گھور رہا ہے تو دوسری طرف کچھ طلباء و طالبات کو کچھ افراد گھسیٹ کر کسی تعلیمی اِدارے سے نکال رہے ہیں ،ہاں وہ دِکھنے میں ایک تعلیمی ادارہ ہی لگ رہا ۔ ایک طرف کچھ لوگ نظر آ رہے ہیں جو کسی کا گھر گِرا رہے ہیں اور وہاں موجود مردوں اور خواتین پر لاٹھیاں تانے ہوئے ہیں تا کہ وہ اُن کے کام یعنی کہ گھر کو گِرانے میں کوئی خلل نہ ڈال سکیں۔
ایک ہی تصویر میں اِس ملک کے نظام کا کیا ہی خوب منظر پیش کیا ہے۔ ایک انسان اِس کو دیکھے تو فوراً سے اِس کھوکھلے سرمایہ دارانہ اور ظالم سماج کو سمجھ جائے ۔ اِسے جس نے بھی بنایا ہے کیا خوب بنایا ہے۔۔۔۔۔
گاڑی کے اوپر ہر طرف سرخ پرچم بھی لہرا رہے۔۔۔۔۔۔
اور گاڑی پر کھڑا وہ شخص سفید شلوار قمیض پہنے ہوئے اور سر پر سرخ پرچم باندھے دِکھنے میں خاصا معقول اور سادہ معلوم ہو رہا ۔ چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی ہے اور موچھیں داڑھی کی نسبت ذرا زیادہ ہیں ۔ قد میں بھی معقول ہے اور وہ ٣۵ سے ٣٩ سال کے پیچ کا شخص پڑھا لِکھا دِکھنے میں ہی لگ رہا ہے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے بولنا شروع کیا۔۔۔۔۔
سب رک گئے تھے اب
آپ سب کو یہاں آنے پر سرخ سلام پیش کیا جاتا ہے۔ میں ایک عام اِنسان ہوں، آپ سب کی طرح ایک عام انسان۔ اِس سرمایہ دارنہ نظام کا ڈسا ہوا ہوں۔ اور مجھے یقین ہے چونکہ آپ سب آج اِس نظام کے خلاف مارچ میں آئے ہیں تو یقیناٙ سب ہی کسی نا کسی صورت میں اِس ظالم نظام سے میری طرح ہی ڈسے ہوئے ہوں گے۔۔۔۔
!دوستو
کب تک یہ ایسے ظلم کر کے چپ کراتے رہیں گے۔ کب تک ہمیں اپنی مرضی کی سانسیں دیں گے۔ کب تک ہمارے گلے ایسے گھونٹتے رہیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اِن کو بتایا جائے کہ یہ ملک ہمارا ہے ، ہماری ملکیت ہے۔ عوام کی ملکیت۔۔۔۔۔۔
ہم اُن کی ملکیت نہیں ہیں بلکہ ہم اِس ملک کے وہ لوگ ہیں جو اِس کی ترقی کیلیئے کوشش کرتے ہیں ، اِس کی ذرخیز زمین ہم لوگوں کی وجہ سے ہی لہلہاتی ہے، اِس کے کارخانے ہماری محنت سے اتنی اونچائی پر جاتے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہم ہی لوگ اِس ملک کو توقی کی راہوں پر گامزن کرنے کیلئے کوشش کرتے ہیں۔ ہم بندوقیں نہیں اُٹھاتے، ہم کسی کو نہیں مارتے، ہم کوئی حملے نہیں کرتے، کسی کو اغوا نہیں کراتے ، کسی کو لاپتہ نہیں کراتے۔۔۔۔۔۔
ہم قلم اُٹھانے والے لوگ ہیں، ہم کھیتوں میں ہل چلانے والے لوگ ہیں، ہم محنت سے کمانے کھانے والے لوگ ہیں۔ ہم کسی پر جبر نہیں کرتے بلکہ علم کی روشنی سے منور کرتے ہیں تا کہ لوگ اپنا اچھا برا خود جان سکیں، تا کہ اُن کو اپنے انسانی حقوق کا بھی پتہ ہو اور فرائض کا بھی، تا کہ کوئی بھی حکمران آ کر اُن کے سامنے جھوٹے دعوے کرے تو وہ اُس کے جھوٹ اور مکاری کے الفاظ کو سمجھ سکیں ، تاکہ اُن کو معلوم ہو سکے کہ کیسے، کون اور کیوں نامعلوم افراد کسی پر فائرنگ کر کے قتل کر کے بچ جاتے اور اُن سفاک قاتلوں کا پتہ بھی نہیں چلایا جا سکتا۔
!ساتھیو
آپ سب کو معلوم ہے پچھلے دنوں میں جو واقعات ہوئے وہ سب کتنے خوفناک تھے ، کیسے ایسے انسانیت کی تزلیل کی جا سکتی ہے ، کیسے معصوم لوگوں کی تزلیل کی جا سکتی ہے؟ ایسے کیسے کوئی انسان جو حق کیلیئے کوشاں ہو لاپتہ ہو سکتا ہے، قتل ہو سکتا ہے؟
جب اتنا سب ہو گا تو ہم خاموش کیسے رہ سکتے۔؟ ہم کیوں نہ مظلوموں کے حق میں بولیں۔ ہم کیوں نہ اُن انصاف کی بات کرنے والوں کیلیئے انصاف کے مطالبات کریں؟
کیا انسانی جانوں کی کوئی قیمت نہیں ہے کہ اُن کے ایسے قتل کا سُراغ نہ لگایا جا سکے۔ایسا تو تب ہوتا ہے ناں جب کوئی ایسا انسان بیچ میں شامل ہو جس کے خلاف بولا نہ جا سکتا ہو۔
کہیں سے ایک زور دار آواز آئی۔۔۔۔
“””””””یہ جو دہشت گردی ہے۔۔۔۔ اِس کے پیچھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔””””””
اُس کی اگلی بات کی آواز سپیکر کی آواز میں دب گئی۔۔۔
!ساتھیو
ہم سب ساتھ ہیں ؟ ہم اُن کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ ہم اُسی حق اور سچ کے راستے پر چلیں گے جس پر وہ سب چل رہے تھے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے لوگوں کو بازیاب کرایا جائے اور جن کو بےرحمی سے قتل کیا گیا ہے اُن کے قاتلوں کو سامنے لایا جائے۔ ہم کبھی ایک دوسرے کو اور کسی مظلوم کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ ہم میں سے کوئی رہے یا نہ رہے باقی کے لوگ کوشش نہیں چھوڑیں گے۔ یقیناً کوئی مر بھی سکتا ہے، کوئی مارا بھی جا سکتا ہے۔ ہم ڈریں گے نہیں ہم پیچھےنہیں ہٹیں گے بلکہ حق اور انصاف کیلئے بولتے رہیں گے، کوشش کرتے رہیں گے۔
یہ سب کہتے ہوئے اُس کی آواز بھر آئی ۔
یہ کہہ کر رُک گیا وہ
بولا نہیں جا رہا اُس سے شاید۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسی مارچ میں ایک تقریباً ۴٠ سالا خاتون جس نے بڑی سی لال رنگ کی چادر پہنی ہوئی ہے اپنے ساتھ چلتی ہوئی ایک ٢٢ سالا لڑکی سے کہتی ہے۔۔۔ معلوم ہے تمہیں یہ کون ہے؟
جی جی یہ کامریڈ انجم ہیں ، بہت کوشاں ہیں یہ کہ اِس ظالم سماج کو ٹھیک کر سکیں۔ چاہے مسئلہ طلباء کا ہو یا کسانوں کا ، مظلوم امیر ہو یا غریب، معاملہ کسی معصوم پچے اور بڑے کے سفاکانہ قتل کا ہو یا کسی کی عزت مجروح کی گئی ہو سب کے حق کیلئے بولتے ہیں ، اپنی آخری حد تک انصاف دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم نوجوان تو اِن کی باتوں سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ اِن کی گفتگو اکثر میں سوشل میڈیا پر سنتی ہوں اور سمجھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں کبھی ملی نہیں اِن سے لیکن اِن کے کام اور اِن کی کہی ایک ایک بات سے متاثر ہوں۔
“”””””””بھائی ہے میرا یہ۔۔ پتہ ہے اِس کے بیٹے کو اغوا کیا ہے اُن ظالم، جابر لوگوں نے تا کہ اِسے خاموش کرا سکیں۔ دو ہفتے پہلے کال آئی تھی کہ یا تو پیچھے ہٹ جاؤ یا بچے سے ہاتھ دھو بیٹھو۔ مگر دِیکھو تو سہی اکلوتے پچے کے اغوا کے اتنے شدید غم اور اُن کی ایسی دھمکیوں کے بعد بھی یہ نہ رُکا اور آج یہاں ہے اور سب کے ساتھ ہے۔ بیوی رو رو کر پاگل ہو گئی ہے۔۔ماں ہے ناں ماں۔۔ اتنا ظرف نہیں دِکھا سکتی جتنا یہ دِکھا رہا ہے۔۔ اتنا جذبہ معلوم نہیں کہاں سے آیا ہے اِس کے پاس۔ پتہ ہے میں اِس کے کام کو اتنا نہیں جانتی مگر اتنے شدید غم کے باوجود یہ گھر سے اِس ریلی کیلئے نکلا تو میں خود کو اِس کا ساتھ دینے سے روک نہ پائی اور ساتھ چل دی۔”””””””””
وہ لڑکی سمجھ نہ پائی کہ کیا کہے۔۔۔ کیسے اس اتنے عظیم انسان کے کیئے کو سراہے جو دوسروں کیلئے اُن کے بچوں کیلئے بولنے نکلا ہے، لڑنے نکلا ہے ۔ اور جس کا اپنا بچہ کسی ظالم کے شکنجے میں ہے۔۔
وہ ایک دم آنکھیں صاف کرتے ہوئے جلدی سے بولی
سرخ سلام ہو کامریڈ۔۔۔۔
اس سے زیادہ وہ کہہ نہ سکی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک آواز آئی ۔۔۔ پانی لاؤ
پانی پیا اور بولا
!ساتھیو
کہیں سے گولی چلنے کی ایک زور دار آواز آئی۔۔۔۔۔
ایک دم وہاں بھگدڑ مچ گئی۔ عجیب خوف و ہراس پھیل گیا ۔ معلوم نہیں گولی کہاں سے چلائی گئی اور کس نے چلائی ۔۔۔۔۔۔
!ساتھیو
نیچے بیٹھ جائیں سب جلدی اور سروں کو ڈھانپیں وہ ایک دم چلایا مگر خود اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں اور بولنا شروع کیا۔۔۔۔۔۔۔
!ساتھیو
ہم اپنا حق لے کر ہی رہیں گے۔ کسی کے دباؤ میں کوئی نہیں آئیں گے۔ اب ظلم سہتے سہتے تھک گئے ہیں۔ اپنے حقوق کا استحصال اب برداشت نہیں کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دوسری گولی چلی اور وہ اُسے لگی ، سر پر ۔۔۔۔۔۔۔۔
آہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک درد بھری آواز کے ساتھ وہ اُسی ڈالے میں گر گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر طرف شور اور ہلچل مچ گئی۔ لوگوں میں شدید خوف کے ساتھ غم و غصے کہ لہر دوڑ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی سمجھ نہ پایا کہ اتنے پُر سکون ماحول میں یہ اچانک ہوا کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ ساتھی اُس کی طرف فوراً لپکے اُسے اُٹھایا۔۔۔۔۔۔۔
مگر وہ موقع پر ہی سب کے بیچ سے رخصت ہو گیا تھا۔
ایک اور قتل ، ایک اور موت
کسی معصوم کی ایک بار پھر حق بولنے پر جان لی گئی۔۔
کس نے لی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
کیوں لی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
یہ باقیوں پر چھوڑ کر وہ چلا گیا۔۔
خود چلا گیا مگر علم کی روشنی سے کئی دلوں اور کئی چہروں کو منور کر گیا۔۔۔۔۔
اپنے جانے کے بعد کئی بولنے والے چھوڑ گیا تھا، حق او سچ کیلئے بولنے والے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر ایک سوال پھر اُبھرا کہ ایسے کب تک معصوم لوگوں کا قتل ہوتا رہے گا اور کب تک قاتل خفیہ رہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔؟
آخر کب تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
